پچھلے دنوں میں نے اپنا ایک مضمون ہندوستان کے ایک ماہانہ پرچے کو بھیجا۔ مضمون کے ساتھ
میں نے ایک خط بھیجا جس میں یہ لکھا تھا کہ اگر آپ اس کا معاوضہ ادا کر سکیں تو
اپنے پرچے میں چھپائیں، ورنہ واپس بھیج
دیں۔ جیسا کہ مجھے معلوم تھا مضمون واپس آگیا۔ اس کے ساتھ اڈیٹر صاحب نے جو خط
بھیجا اس میں یہ لکھا تھا کہ چونکہ جنگ کے باعث بہت سے اخراجات میں کمی کرنا پڑی
ہے، اس لئےرسالے کے مالکوں نے مضامین کی اجرت دینا بھی بند کر دی ہے۔
یہ خط پڑھ کر میرے جی میں آئی کہ اس کا جواب اس طرح لکھوں «مجھے
بہت افسوس ہے کہ جنگ کے باعث آپ کی مالی حالت
اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ آپ کو
مضامین کے معاوضے کا سلسلہ بند کر دینا پڑا۔ میری رائے ہے کہ آپ پرچہ بند کر دیں۔
خواہ مخواہ نقصان اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟
جنگ ختم ہو جانے پر جب حالات موافق ہو جائیں تو پھر سے اپنا پرچہ جاری فرما دیجئے گا۔
بہت سے پرچے ایسے ہیں جو لکھنے والوں کو معاوضہ نہیں دیتے۔
یہ اصل میں پرچے نہیں ہیں بلکہ انہیں بھیک
کا پیالہ کہنا چاہیئے۔ ان کے مالک چاہتے ہیں کہ لکھنے والے ان
کے پرچوں کا مفت میں پیٹ بھریں۔ ان رسالوں
سے مالکوں کا پیٹ بھرتا ہے۔ کاتبوں کو اجرت ملتی ہے، پریس میں کام کرنے والوں
کو مزدوری ملتی ہے، لیکن اگر کسی کو کچھ
نہیں ملتا تو وہ لکھنے والے ہیں۔ کیا ہم
آدمی نہیں ہیں؟ کیا ہمیں روٹی نہیں
چاہیئے؟ کپڑے نہیں چاہیئیں؟ رہنے کو گھر نہیں چاہیئے؟
ملک اور اس کے ادب کو
لکھنے والے چاہیئیں اور لکھنے والوں کو ایسے اخبار اور ایسے رسالے
چاہیئیں جو ان کی محنت کا معاوضہ ادا کریں۔
جو اخبار اور رسالے ہماری تحریروں کا معاوضہ ادا نہیں کرتے وہ بند ہو جانے چاہیئیں۔ وہ بھیک کے پیالے ہیں اور ملک کو بھیک
کے پیالے نہیں چاہیئیں۔
ہمیں اپنے قلم سے روزی کمانا ہے۔ ہمارے راستے میں مشکلات حائل نہیں ہونی چاہیئیں۔ ملک کو ہمارے
لئے ایسے حالات پیدا کرنا چاہیئیں کہ
ہم اپنے قلم سے اپنی روزی کما سکیں۔ لکھنے والوں کو کوئی اور کام نہ
کرنا پڑے۔ لیکن ان حالات کو پیدا کرنے کے لئے ہمیں لڑنا ہوگا۔ ہمیں ایک زبردست جنگ
کرنا ہوگی۔ ہمیں ہڑتال کرنا ہوگی۔ یعنی جس وقت تک یہ اخبار ہمیں ہماری تحریروں کا معاوضہ نہ دیں اس وقت تک ہمیں ان کے
لئے کچھ نہیں لکھنا چاہیئے۔ ہمیں حالات کو بدلنا ہے اور ہم حالات کو بدل کر رہیں
گے۔»